coming soon..

Apne Shehar ko Apna dost Kis Tarah Banaye khawateen keliye
Showing posts with label huqooq. Show all posts
Showing posts with label huqooq. Show all posts

Tuesday, 28 May 2019

Sohar ko gumrahi se Bachao

شوہر کو گمراہی سے بچاؤ
خاوند چاہے غریب کا شتکار ہو یا دنیا کا بادشاہ , اس کو ایک ہمدرد اور اچھے ساتھی کی ضرورت پڑتی ہے, نیک اور فرض شناس بیوی سے سے بڑھ کر خاوند کے لیے اور کون ہمدرد ہو سکتا ہے, بیوی کو چاہیے کی وہ اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح محسوس کرے اور یہ بات اس کے لیے نہایت ضروری ہے کی اس کا سوہر جب دن بھر کے کام کاج سے تھک ہار کر گھر آئے تو اسے خند پیشانی سے پیس آئے اسے موقع سناسی سے کام لے , کبھی تو ایک نئی نویلی دلہن کی طرح پیش آئے جان نثار ساتھی کی طرح اس کے رنج و غم میں شریک ہوں, اور کسی وقت ایک بہادر محافظ کی طرح اس کو دنیا کی الجھنوں سے بچانے کی کوشش کریں کریں, تو کبھی ایک سفیق استاد کی طرح اس کو اس فانی دنیا کے ناجائز خواہشات اور گناہوں میں ملوث ہونے سے بچائیں, مرد کے اخلاق مرد کی تندرستی, اس کا سکھ, خاندان کی بہتری, اسی طرح عزت و آبرو کی حفاظت اور اولاد کی بہتری , اور یہ سب عورت کے اختیار میں ہے وہ چاہے اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے

Thursday, 4 October 2018

sauteli aulaad se salok urdu

sauteli aulaad se salok
sauteli aulaad se salok urdu
سوتیلی اولاد سے سلوک
sauteli aulaad se salok
ہمارے گھروں میں یہ رواج بہت ہی خراب ہے کی عورت اپنے سوتیلی اولاد کو بالکل ہی حقیر اور ذلیل سمجھتی ہے اور اکثر ان سے بدتر سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے اور موقع ملتے ہی ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں- جہاں کسی سہیلی یا پڑوسن سے ملاقات ہوئی- تو اب کہنا ہی کیا- سوتیلی اولاد کی بدگوئی شروع ہوگی- ارے آپا کیا کہوں وہ میری اولاد نہیں میری دشمن ہے- میرے سینے پر چڑھ کر میرا خون پی رہے ہیں- مجھے جلا جلا کر خاک کر رہے ہیں- میرے کلیجے میں ہاتھ ڈال کر اس کو نوچ رہے ہیں- ہائے رے میرے اللہ یہ کیسى پریشانی میرے کہاں قسمت پھوٹی کی اس میں آئی- میں نے ان سے شادی کرکے اپنا نصیب اپنے ہی ہاتھوں پاس پاس کر دیا ہے- سچ تو یہ ہے کہ بیگم صاحبہ خود ہی بیچارے سوتیلے پر ظلم ڈھا کر آئے ہیں- اور الٹا ان بیچاروں کا قصور نکالتی ہیں- ایسی نالائق عورتیں اپنے شوہر کے سامنے سوتیلی اولاد کے برائیاں بیان کرکے باپ کا دل بھی ان سے تلخ کر دیتی ہیں- اور اس طرح باپ اور اولاد کے درمیان کشیدگی اور عداوت کی زبردست دیوار کھڑی کر دیتی ہیں- اس کا نتیجہ جو سامنے آتا ہے اس سے آپ بے خبر نہیں- ایکسر یہ مسلمان بیوی کو جو زیب دے, اسی طرح اپنی سوتیلی اولاد سے برتو- ہمیشہ دل بڑا رکھو تنگ دلی اور تنگ نظری سے کام نہ لو- سوتیلے کو بھی اپنی حقیقی اولاد کی طرح رکھو- اپنی اولاد ہی کی طرح ان سے محبت مامتا اور پیار کے ساتھ سلوک کرو- ان بیچاروں کے لیے یہی ایک مصیبت کیا کم تھی کی ان کی ماں کو خدائے پاک نے اپنے پاس بلا لیا- پھر اوپر سے وہ بیچارے تمہارے مظالم کے شکار ہوجائیں- یہ کیسی دلسوز مصیبت کہی جائے تم اپنے لیے سوچو- اگر خدا نہ خواستہ اولاد کو بچپن میں چھوڑ کر تم خود مر جاؤ اور تمہاری جگہ پر جو دوسری عورت آئے وہ تمہارے جیسی نالائق, پھوہڑ سنگدل ظالم اور بے رحم ہو تو پھر تمہاری اولاد کا کیا ہو, اس لیے بہنوں اپنی خراب عادتیں چھوڑ کر سوتیلو کے ساتھ حقیقی اور سگی ماں کی طرح ہیں محبت مامتا اور مٹھاس سے ملو نہیں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے ناراض ہو جائیں گے- ہجرت رسول پاک نے فرمایا ہے, تم دو شخصوں کے درمیان برای پیدا کرنے سے دور رہنا کیوں کی یہ عادت انسان کو تباہ کر دیتی ہے- صحابیات اپنے سوتیلے اولاد کے ساتھ بھی حقیقی اولاد کے مانند ہیں برتا کرتے- ان کے یہاں حقیقی اور سوتیلی ماں جیسا امتیاز ہی نہ تھا- دونوں سے برابر برابر سلوک کرتے- مسلمانوں کی ماں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے نبی مکرم کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ کی سوتیلی ماں تھی- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی سوتیلی بیٹی حضرت فاطمہ کی تعریف کرتی ہوئی فرماتی ہیں میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا فاطمہ سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا

دوسری جگہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تاریخ میں فرماتی ہیں ہجرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم جیسے رہنے سہنے میں اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے میں بات چیت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بہتر میں نے کسی کو نہیں دیکھا- کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ہجرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ کس کو چاہتے تھے, فرمایا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو, جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود شادی کا سارا بندوبست کیا- کھجور کی چھال بھر کر تکیہ تیار کیا, مکان لیپا, بستر بچھا ئے, گھر کی صفائی کی, دعوت میں چھوہارے اور انگور پیش کئے, لکڑی کی الماری جیسے تیار کیا کی اس پر پانی کی مشک اور کپڑے لٹکائے جائیں- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں, میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے اچھی شادی  کوئی دوسری نہیں دیکھی, شادی کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جس گھر میں گئی اسنے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں فقط ایک دیوار کا فاصلہ تھا- درمیان میں ایک کھڑکی تھی جہاں سے کبھی کبھی آپس میں بات چیت ہوا کرتی- آپس کے ہر وقت کے میل ملاپ کے باوجود ماں بیٹی کی محبت میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا:
sauteli aulaad se salok urdu

Saturday, 29 September 2018

mardo ko keya pasand hai khawateen ke liye

Mardo ko keya pasand hai
mardo ko keya pasand hai
mardo ko keya pasand hai khawateen ke liye

مردوں کو کیا پسند ہے
کونسی خوبیوں سے شو ہر کے دل کو جیتا جاے۶  اس کا یقینی جواب تو مشکل ہے کیو نکہ ہر شخص کا مزاج الگ الگ ہوتا ہے ۔کسی کو بناٶ سنگار پسند ہو تا ہے تو کسی کو سادگی بھتی ہے تو کسی فیشن پسند ہوتا ہے۔کسسی کو سیدھی سادی اور شرمیلی عورت سے پیار ہوتا ہے تو کسی کو تیزمزاج پسند تو کسی کو معصوم اور بھولی بھالی صورت سے محبت۔کوٸ بانکی بانکی ادٶں کا دلرادہ تو کوٸ ناز نخروں کو گلےسے لگاتا ہے۔کوٸ مسکان بکھیرنے والی عورت کو پسند کرتا ہے تو کوٸ اپنی تا بعداری کرنے والی عورت کو پسند کرتا ہے۔مطلب یہ کہ ہر ایک عورت کو ایسی خوبیاں اور ایسی ترکیسبین تلاش  کرنی چاہییں کہ جس سے اس کا شوہر اس کی طرف للچاۓ اور اس کے قاپو میں رہے ۔شوہر کے پسند کی چند خو بیاں یہ ہیں
سب سے پہلی خوبی جس میں کششں ہوتی ہے وہ حسن اور خوبصورتی ہے ۔عورت بہت خوبصورت ہونی چاہیۓ یہ کچھ ضروری نہیں البتہ اس کا بناٶ سنگا اور ااس کے لباس پہننے کی تر کیب وغیرہ میں ایسی صفاٸ اور ادا ہونی چاہیے کہ جس سے اس کا جسم خبصورت اور پر کشش بن جاۓ
دوسری خوبی دل کی معصو میت اور قدر دانی کا جزبہ ہے ۔کینہ پر در ،جھوٹی ،میلے دل کو عورت کو مرد ہمیشہ لعنت کرتا ہے ۔اس لیےعورت کو  قدر دانی کا جزبہ اور دل کی معصو میت  اور اپناٸيت کا نمونہ پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔اس سے اس میں خوبصورتی اور حیا،یہ دونو خو بیاں پیدا ہوتی ہیں۔
کینہ پردراور میلے دل کی عورت اپنے شوہر کے اعتماد کو حاصل نہیں کر سکتی۔
اتناہی نہیں بلکہ دوسرے لوگ بہی اس کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔
ہر ایک شوہر یہ چاہتا ہے کہ میری بیوی کو مجھ سے سمجھ اور عقل میں کم ہونی چاہیے۔
اپنی کم عقل کو دیکھ کر ہی مرد خوش ہو جاتا ہے ۔چالاکی اور ہوشیاری میں عورت شوہر سے فوقیت رکھتی ہو ،یہ بات مرد کو پسند نہیں ۔معمولی پڑھا لکھا شخص بھی ایک گریجویٹ عورت کے ساتھ شادی کرکے صحیح اور کامل اطمینان حصل نہیں کر سکتا،کیونکہ اس میں اس کو اپنی کمزوری اور اپنی توہین جیسامحسوس ہوتا ہے۔اسلیے عورت کو کبھی بھی شوہر کے آگے اپنی ہوشیاری اور عقل مندی کی تعریف نہیں کرنی چاہیے اور وہ خود اپنے شوہر سے کم سمجھ اود کمزور عقل کی ہے۔ایسا احساس دلانا چاہیے اور کبھی بہی شوہر کی سمجھ اور ہوشیاری کی کمزوری ظاہر نہ کرے۔عورت کی سمجھ اور ہوشیاری سے مرد ڈر سکتا ہے  لیکن محبت نہیں کر سکتا ۔علاوہ ازیں عورت بھی اپنے لیے زیادہ برتری والے اور بہادر شوہر کو پسند کرتی ہے ۔اپنے اشارے پر ناچنے والے مرد کو زیادہ پسند نہیےکرتی۔
مردکے دل کو اپنی طرف ماعیل کرنے کے لۓ سب سے بڑھ کر صفت اور خوبی خدمت اور تو اضع ہے۔ ہر ایک عورت کو اپنے شوہر کی خدمت کرنی چاہۓ اور اس کے ساتھ تو اضع  اور خاکساری سے پیش آناچاہۓ۔ اس سے شوہر کی محبت بڑھتی ہے اور عورت کو بھی اطمینان نصیب ہوتا ہے۔شوخ چشم بے حیا اور ضدّی عورت کو مرد کبھی پسند نہیں کرتا۔ فرمانبردار عورت ہی شوہر کو جیت سکتی ہے۔ 
مرد ایسی عورت کو دل سے چاہتاہے جو اس کی غلطیوں کو درگزر کرے۔اس کے عیبوں کو جانتے ہوۓ بھی اس سے محبت کرے اور جس کے برتاٶ اپناٸیت خلوص اور گفتگو میں مٹھاس ہو ایسی عورت کو ہی مرد دل سے چاہتا ہے۔
مرد ایسی عورت کو پسند کرتا ہے جس میں رحم دلی ہو دوسرو کی تکلیف دیکھ کر اس کے دل میں ہمدردی کا جزبہ پیداہو۔کسی یتیم بچے کو دیکھ کر اپنی گود میں اٹھالے جس کا دل کامل انسانیت اور مروت کے جزبات سے سرشار ہو ایسی عورت شوہر کو بھاتی ہے اور پسند ہے۔اپناہی فائدہ چاہنے والی بدزبان جس کی زبان ہمیشہ قینچی کی طرح چلتی ہو۔اسی طرح وہ عورت جو ہمیشہ اداس اور مایوس بنکر خاموش رہنے والی ہو اس کو کوٸ مرد پسند نہیں کرتا۔
مرد کے لۓ جاذب نظرعورت کا مسکراتا ہوا مکھڑا ہے خوشدلی ہے جو عورت خود خوش رہتی ہے وہ دوسروں کو بھی خوش کرتی ہے اور کرسکتی ہے۔عورت کی یہ خوبی اور صفت مرد کے فکر وغم میں اور تکان  وپریشانی وغیرہ کو دور کرکے اس کو اطمینان سکون  ہمت  اور تازگی بخشتی ہے تھکے ماندے شوہر کو خوشی اور تاگی کے ساتھ آرام دینے کی عورت کو فکر ہونی چاہۓ۔اس کو جن باتوں میں مسرت ہوتی ہے ایسی باتیں کرنی چاہٸیں۔ہنستا اور مسکراتا ہوا چہرہ ہزاروں دکھ دور کرتا ہے۔یہ کہاوت عورت کو یاد رکھنی چاہۓ اور یہ خوبی اپنے اندر پیدا کرنی چاہۓ۔
عورت  کا سب سے وصف اس کی پاکدامنی ہے ۔پاکدامنی کے نور سے عورت کی خوبصورتی  دمک اٹھتی ہے۔جو عورت پاکدامن ہوگی وہ اپنے شوہر کے لیۓ کامل طورپر  وفادار ہو گی اور وہی عورت پاکیزگی کے نور سے چمک دمک اٹھے گی۔پاکدامنی کی روشنی جسم کی خوبصورتی  سے بھی بڑھ کرہے جس عورت میں یہ روشنی نہیں ہوتی پھرچاہے کتناہی حسن اس کے جسم میں ہو پھر بھی اس کی قیمت ایک کوڑی کے برابر بھی نہیں ہوتی۔پاکدامنی کے نور سے عورت جو چاہے وہ کام کراسکتی ہے۔پاکدامنی کے نور سے ہی عورت اپنے غریت گھر کو بھی تو نگر بناکر اس میں جنت جیسے آرام وسکھ حاصل ہونے کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ جو عورت ہربات اپنی خواہشں کے مطابق کرنا چاہتی ہے یا دوسروں سے کرانا چاہتی ہے جس کو دوسروں کی خوشی و ناراضی کی کچھ پروا نہیں ایسی عورت اپنے شوہر کے دل میں کبھی بھی عزت و اکرام کا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ شوہر کی تا بعداری کرو پوری دنیا تمہارے تابع ہو جاۓ گی۔شوہر کا اعتماد حاصل کرو تو گھر کا پورا اعتماد حاصل کر سکو گی۔ شوہر کی مہبت اور اس کے دل کو جیت کراپنے غرب اور چھوٹے سے گھر کو جنت نما بنادو

Monday, 10 September 2018

aulad ke huqooq

aulad ke huqooq
aulad ke huqooq
aulad ke huqooq
Aulad Ke huqooq
اولاد کے حقوق
اولاد اللہ کی عظیم نعمت ہے, وہ اپنے والدین کا وارث ان کی آرزو تمناؤں اور منصوبوں کی تکمیل کا ذریعہ اور بڑھاپے کا سہارا ہے, ان کی بہتر تعلیم و تربیت ایک کامیاب معاشرے کی تشکیل کے لیے از حد ضروری ہے، انسان اپنی موت کے بعد بھی ان کی دعاؤں سے مستفید ہوتا ہے
لہذا مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں
پیدائش کے بعد ان کے کان میں اذان کہی ساقی ان کے کان میں پہنچنے والی پہلی آواز اللہ کی تكبير ہو، انکے بہتر نام رکھیں اور پیدائش کے ساتویں دن ان کا حقیقہ کریں، ان کے نیک اور صالح ہونے کی دعا کریں، دستور کے مطابق ان کا کھرج ادا کریں، ان کی حفاظت کریں ان پر توجہ دیں ان کی نگرانی رکھی اور وہ جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ان کے لیے انہیں تیار کریں، ان کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کریں ان کے ساتھ شفقت و نرمی کا برتاؤ کریں اور مفید چیزوں کی طرف ان کی رہنمائی کریں
ان کی عمدہ تعلیم اور تربیت کا انتظام کریں اور ان کی جسمانی اور روحانی صحت و تندرستی کا خیال رکھیں
بیمار ہونے پر ان کا علاج کرائیں، ان کے لئے اچھی صحبت اور اچھا ماحول مہیا کریں، ان کے لیے اچھا اسوہ اور نمونہ پیش کریں، سات سال کے ہو جائیں تو ان کو صلاۃ کا حکم دیں اور دس سال کے ہو جائیں تو اس پر سزادیں، دس برس کی عمر ہو جانے کے بعد ہر ایک کے لئے الگ الگ مستقل بستر کا انتظام کریں،بالغ اور نوجوان ہونے کے بعد ان کا نکاح کر دیں
اور مندرجہ ذیل چیزوں سے پرہیز کریں
ان کی تعلیم اور تربیت میں غفلت و کوتاہی سے ، ان کو بے جا سزا دینے سے، کسی ایک کو یاسب کو وراثت سے محروم کرنے سے، ان کے درمیان عدل و انصاف نہ اپنانے سے، بالغ ہونے کے بعد جاتی اغراض و مصالح کی بنیاد پر شادی نہ کرانے سے-

Thursday, 6 September 2018

miya biwi ke huqooq

miya biwi ke huqooq
miya biwi ke huqooq
miya biwi ke huqooq

میاں بیوی کے حقوق

شوہر بیوی انسانی سماج کی بنیادی ایٹ ہے ان کی اصلاح سنہری مستقبل کی ضمانت ہے
لہذا مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں
میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کی غلطیوں اور لغز سوپر جسم پوشی کرے
دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے شریک رہے
اللہ کی اطاعت کے لیے باہمی نصیحت اور تاکید کریں
رازو کی حفاظت کریں
جنسی حقوق کی ادائیگی
ایک دوسرے کے لیے بناو سنگار کریں
شوہر بیوی کا مہر ادا کرے
بیوی کا نان نفقہ ادا کریں
بیوی کو رہائش مہیا کریں
بیوی کی تعلیم اور تربیت کا انتظام کریں
بیوی کی عزت و ناموس کی حفاظت کریں
بیوی کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کریں
تو بیوی کو اپنے ساتھ رکھیں
بیوی کی نافرمانی پر اس کی تنبیہ کریں
بیوی شوہر کی فرما برداری کرے
شوہر کے مال کی حفاظت کرے
شوہر کا شکر گزار رہے
شوہر کی خدمت کرے
سوہر کی والدین اور بہنوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے
اولاد کی رجعت اور پرورش کریں
صبر و شفقت کے ساتھ ان کی تربیت کرے
دین و آبرو کی حفاظت کرے
شوہر کے احساس و شعور کی  رعایت کرے اس کی مرضی کے کام کرے اور اس کے نا پسندیدہ کاموں سے دور رہے
اور مندرجہ ذیل چیزوں سے پرہیز کریں
مزموم غيرت سے
عورت کی غلطیوں کی تلاس میں رہنے سے
حيض نفاس کی حالت میں ہمبستری کرنے سے
پاخانہ کے راستے ہمبستری کرنے سے
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے سے
شوہر کی اجازت کے بغیر نفلی روزے رکھنے سے
شوہر کی اجازت کے بغیر کسی غیر محرم سے بات کرنے سے یا کسی کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے
شوہر کی طاقت اور اپنی ضرورت سے زیادہ کا مطالبہ کرنے سے بلکہ کی قناعت پسند اور کفایت سار ہو جانا چاہیے

Tuesday, 4 September 2018

waldain ke huqooq

waldain ke huqooq

waldain ke huqooq
waldain ke huqooq

والدین انسان کے وجود کا ذریعہ ہیں بچپن میں انہوں نے ہی اس کی دیکھ بھال اور پرورش کی ہے اللہ تعالی نے اپنی توحید کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے والدین میں ماں کا درجہ باپ پر مقدم ہے کیوں کہ پیدائش میں ماں نے زیادہ تکلیف برداشت کی ہیں ماں کے قدموں کے تلے جنت ہے
 مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں
1: والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں
2  اپنی طاقت بھران کے ساتھ نیکی اور بھلائی کریں
3 ان کے ساتھ ہمیشہ نرمی
کا برتاؤ کریں ان کے سامنے نیچا بن کر رہیں اور ان کی آواز سے اپنی آواز پست رکھیں
4 ان کی عزت و توقیر ملحوظ رکھیں اور ان کی رضا اور خوشی کی تلاش میں راہا کریں اور ان کی ہر جائز بات میں فرمانبرداری کریں
5 ان کے لیے ہمیشہ غائبانہ طور پر دعا کرتے رہیں ((ربي ارحمهما كما ربياني صغيرا )) ان کے لیے بہترین دعا ہے-
6 دل و زبان سے ان کے حقوق کا اعتراف کریں
7 ان سے دعائیں لیا کریں
8 ان کے دوستوں کی عزت کریں
9 ان کی وجہ سے قائم ر شتون کو جوڑے اور صلہ رحمی کریں
10 لوگوں سے ان کے کئے ہوئے وعدے ان کی وفات کے بعد بھی پورے کریں
مندرجہ ذیل چیزوں سے پرہیز کریں
1 والدین کی نافرمانی اور ان کی ایذا رسانی سے
2 ان کی ناراضگی اور نا خوشی سے
3 اپنی بیوی اور اولاد کو ان پر فوقیت دینے سے
4 ان کی بددعا سے
5 ان کو گالی دینے برابھلاکہنے ڈانٹنے ڈپٹنے اور چھڑکنے سے
6 ان کو گالی دلانے کا سبب بننے سے بایں
طور کہ آپ کسی کے ماں باپ کو گالی دی تو وہ پلٹ کر آپ کے ماں باپ کو گالی دے
7 ان کی کسی بات پرا ف;; يا  هشت يا ہو نہ  کہنے سے-

Sunday, 26 August 2018

shohar ke huqooq

shohar ke huqooq

shohar ke huqooq
shohar ke huqooq
خاوند کے حقوق
تمہارا خاوند غریب ھو تو بھی تم اس کو تونگر اور مالدار ہی سمجھو اس کا اکرام کرو ہر کام میں اس سے مشورہ لو جو کہے اسے فورا کردو اس کی مرضی کے خلاف کبھی کوئی کام نہ کرو ہر بات میں اس کی خوشی کا خیال رکھو اپنی خوشی پر اس کی خوشی کو ترجیح دو ہر وقت اس کے آرام کا خیال رکھو اس کے دل کو رنج پہنچے ایسی کوئی بات نہ کرو جو کچھ وہ اپنی خوشی سے دے اسے لے لو جو کام کرنے کے لئے کہے اس طرح کسی سے کردوں کی وہ بے فکر ہو جائے اور تھوڑی آمدنی کے باوجود کسی قسم کی کوئی الجہن ہو جندہ دل بن کر رہو اس طرح  خنده پیشانی سے پیش آؤ گی تم کو دیکھتے ہیں اسکا دل باغ باغ ہوجائے اور سب پریشانیاں بھول جائے اپنی ضرورت سے پہلے اس کی ضرورت پوری کرو جہاں تک ہو سکے اس کو اچھا کھلاؤ کھانے سے پہلے تم خود اس کے ہاتھ دھلواؤں غریب ہو تو ہاتھ سے کپڑے سیکر پہناؤ اس کے سب کام اپنے ہاتھ سے کرتی رہو چائے پانی ناشتہ پہلے ہی سے تیار رکھو اس کو پریشانی ہو ایسا کوئی کام اور کوئی بات نہ کرو اس کی گنجائش سے زیادہ فرمائش نہ کرو کیوں کی اگر وہ نہ لاسکے گا تو اس کو ملال ہوگا اور اگر تمھاری قسمت میں ہوگی تو وہ چیز تم کو مل جائے گی اپنی جرورت جہاں تک ہو سکے خود ہی پورا کرو اس کو تکلیف نہ دو جب وہ گھر آئے تو اس کے سامنے اپنا پرونا مترو معلوم نہیں کی وہ کس حال میں گھر آیا ہو گا اور باہر اس پر کیا کیا دیتا ہو گا کھاتے وقت ایسی دلچسپ باتیں کرو کی وہ اطمینان سے کھا سکے کیوں کی بے فکری میں دال بھی کھورمہ جیسا لگتی ہے اور پریشانی میں بریانی بھی تھٹر جیسی لگتی ہے یہ بات تجربہ سے ثابت ہوتی ہے بعض عورتیں شوہر کو آتے ہی اپنی داستان سنانے بیٹھ جاتی ہیں اور اس کا کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا سبب سوار کر دیتی ہیں اور پھر وہ بیچارا کچھ کھایا نہ کھایا کر کے اٹھ جاتا ہے اس میں خدائے پاک بھی ناراض ہوتے ہیں اور خاوند بھی نا خوش ہوتا ہے ایسی بے عقل سے اللہ پاک بچائے
اگر اللہ پاک نے تم کو کچھ صلاحیت دے رکھی ہے تو اس کے کام میں ہاتھ بٹاؤں اس کا بوجھ ہلکا کرو اپنی شیرنی زبان سے اس کا غم غلط کرو اس کے دکھ سکھ میں شریک کر ہو اگر کچھ پریشان معلوم ہو تو اس کی پریشانی دور کرو اگر وہ کرج دار ہو جائے تو تم اپنے ہاتھ کے ہنر سے اس کے قرض کے بوجھ کو ہلکا کرو یا پھر تمہارے پاس کوئی نگد زیور ہو اس کی خدمت میں پیش کر دوں اور کہو کی آپ کی یاد کے مقابلے میں یہ چیج کوئی حقیقت نہیں رکھتی آپ ہی تو سب کچھ ہے اللہ پاک آپ کا سایہ میرے سر پر ہمیشہ قائم رکھے اللہ نے چاہا تو آپ اس سے بڑھکر چیج لا دیں گے اور ان چیزوں کو دے کر احسان نہ جتاؤ اور ایسی کوئی بات بھی محسوس نہ ہونے دو ورنہ سب کچھ بے کار ہو جائے گا ہر وقت اس کی خدمت میں لگے رہو اور اس کے آرام وہ راحت کی طرف سے کبھی بھی لاپرواہی نہ برتو اس کی خدمت میں غفلت نہ کرو گھر کے سب کام کاج تم اپنے ہاتھ سے ہی کرو اللہ پاک سوکھ کے دن بھی دکھائیں گے کھرچ کم کرو کفایت شعاری سے کام لو جو کچھ ملے اس میں سے کچھ جمع بھی کرتی رہو معمولی رقم سمجھ کر اڑا  مت دو کپڑے خود سے یوں کھانا خود پکاؤں  بچوں کی دیکھ بھال خود کرو اس طرح کافی رقم جمع ہو جائے گی اور مصیبت کے وقت کام آئے گی اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہ پڑے گا تمہارا تمہارا دل بھی خوش  ہوگا اور پھر تمہاری عقل واہو سیاری پر خاوند آفریں آفریں پکار اٹھے گا کچھ پوچھے تو نرمی سے جواب دو اگر وہ اگر وہ کسی وقت غصہ ہو جائے تو تم نرم بن جاؤ اس کی مرضی پر راضی رہو وہ چاہے تمہارے کاموں سے راضی نہ ہو پھر بھی تم اس کے حقوق ادا کرتی رہو تاکہ اللہ پاک تم سے راضی رہے وہ جو کچھ کما کر دیں اس کو دیانت داری سے کھرچ کرو تم خود تکلیف برداشت کرکے بھی اس کی ضرورتیں پوری کرو
ایسا صاف ستھرا معاملہ کرو کی کی ہر آدمی دیکھ کر یا سن کر خوش ہو جائے مرد کو اپنی کوشش سے جو کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے وہ لا کر تم کو دیتا ہے اب تمہارے اختیار میں ہے کہ اگر تم چاہو تو اپنی صلاحیت اور لیاقت سے خاک کے گھر کو لاکھ کا بنا دو اور اگر چاہو اپنی بے سمجھی سے اس کو برباد کر دو مرد بیچارا اس میں کیا کرسکتا ہے ہیں دیکھو اتنی صلاحیت اور حسن انتظام بھی دنیا میں ایک عجیب چیز ہے
سلیقہ مند اور بدتمیز بیوی کبھی بھی پریشانی نہیں اٹھاتی اور بدنظمی سے گھر کے سبہی لوگ پناہ مانگتے ہیں آئے دن نئے نئے مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی چین اور اطمینان سے کھانا نصیب نہیں ہوتا اور مرد بے چارا پریشان ہو جاتا ہے آخر وہ بے چارا کب تک اور کتنا دیتا رہے آخرکار دستبردار ہوکر سکون اور چین کی تلاش میں دوسری جگہ بھٹکتا پھرتا ہے گھر کی زندگی اس کے لیے وبال بن جاتی ہے اور بچے بھی وبال بن جاتے ہیں اور پھر وہ گھرانے میں بھی بریت محسوس کرتا ہے اور اس سے بے زار ہو جاتا ہے سلیقہ مند بیویاں ہمیشہ گھر کو جنت نما بنائے رکھتی ہیں کھو دبئی سکون اور چین سے زندگی گزارتی ہیں اور گھر والے بھی آرام سے رہتے ہیں بلکہ ایسی عورت گھر والوں کو آرام سے رکھتی ہیں وقت آنے پر سب سے بہتر ثابت ہوں سب تم کو عزت کی نگاہ سے دیکھے گے اور مرد تمہارا تابیدار بن کر رہے گا
حسن انتظام ایک ایسی خوبصورت اور روشن چیز ہے کہ اسکی روشنی دور دور تک پہنچتی اور پھیلتی ہے ہزاروں حسینائیں بد نظم اور سلیقہ مند نہ ہونے کی وجہ سے چڑیل جیسی لگتی ہیں اکثر مرد صورت پرست کی نسبت سیرت پرست ہوتے ہیں وہ ظاہری خوبیوں کے بجاۓ باطنی خوبیوں کے دل دا دہ ہوتے ہیں جو عورتیں مرد کی تابیدار اور فرماں بردار ہوتی ہیں ایسی عورتیں اپنے شوہر کو چاہے وہ کتنا ہی بد مزاج اور نالائق ہی کیوں نہ ہو آخر کار اپنا تابع بنا کر چھوڑتی ہیں یہ بات کچھ مشکل بھی نہیں لیکن افسوس کی کتنی عورتیں سمجھتی ہیں کی ہم جتنا کے جی اوررعب دکھائیں گے مرد اثنا جلد ہمارا غلام اور تابع دار بن جائے گا یہ خیالات سب غلط ہے جو عورتیں محبت پیار اور دنیا کے سرم اور اللہ پاک کے خوف سے اپنے خاوند کی خدمت کرتی رہے ہیں وہی آگے چل کر اپنے سوہر کی محبوبہ بن کر رہتی ہے اور پھر مرد اس پر اپنی جان تک نچھاور کرتا ہے اس کے آرام کا اسکے رجا مندی کا خیال رکھتا ہے اور اس کی نازبرداری کرتا ہے اس کی ہر دلی خواہش پوری کرتا ہے اس کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے اور جو کچھ کما کر لاتا ہے سب اس کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے کبھی کسی بات کا حساب نہیں مانگتا ایسے میان بیوی کی زندگی سکون اور آرام سے گزرتی ہے اور یہ نعمت عقلمند بیویوں کے نصیب ہوتی ہے اور بے وقوف عورتیں اس سے محروم ہوتی ہیں لہذا تمہارا فرض ہے کہ تم اگر عقل سے کام نہ لو تو کم از کم آپ اپ کرکے بھی اس سے برتو اس سے بھی کچھ سمجھ بوجھ پیدا ہوجاتی ہے
عقلمند بیویوں تم انانیت اور غصے کو چھوڑ دو بڑائی اور خود بینی کو پاس نہ پھٹکنے دوں پرائے آدمی کے ساتھ تنہائی میں بات چیت نہ کرو کسی کے آگے سحر کی برائی نہ کرو اس کے خلاف ایک لفظ بھی نہ بولو سور کو کھانا کھانے سے پہلے خود نہ کھاو جس بات میں اسکو دلچسپی نہ ہو اس کو بالکل چھوڑ دو غضبناک ساغر کو بھی خدمت سے مرعوب کرو اس کی خواہش کے مطابق ہو جاؤ وہرا جی رہے ایسا کام کرو اس کی راج کی باتیں دل میں ہی محفوظ رکھو اس کو پسند ہو ایسا بناؤ سنگھار کرو خراب اور بدچلن عورتوں کی صحبت کو ترک کردو اس طرح بر تو کئی تو تمہارا نصیب اچھا ہو جائے گا اور تمہارے شوہر تمہارے تعبیدار ہوجائیں گے اور ہمیشہ تمہاری نازبرداری کریں گے
عورتوں کی دلی خواہش
عام طور سے ہر عورت چاہتی ہیں کہ میرا شوہر میرا تابیدار بن کر رہے اور وہ مجھ سے پوچھ پوچھ کر ہر کام کرے گھر کے کام کاج اور اسی طرح دوسرے اموار میں مجھ سے مشورہ لے اپنی تنخواہ کی ساری رقم مجھے سونپ دے  اور میں گھر کا سارا نظام چلائیں سے سیکھو آہ سحر عورت کو ہو یا قدرتی بات ہے لیکن اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرتا شوہر کے ساتھ ذرا ذرا سی بات پر غصہ ہونے والی اور غصے میں خفا ہوکر مائی کے  چلے جانے والی اور اسی طرح شوہر کے مرتبہ اور اس کی عزت کا خیال نہ رکھنے والے لیباس اور زیورات کے لئے روجانا جھگڑا کرنے والی اور شوہر کی مرضی کے خلاف اپنی مرضی پر چلنے والی عورت شوہر کے گھر کو ہی نہیں اپنی زندگی کو تباہ کر دیتی ہ ہیں